TOP TAB 1
TOP TAB 2
TOP TAB 3
- Tab 1 Title Here
- Kidnapping Based Stories
- MONTHLY EPISODIC NOVELS
- Aab e Hayat by Umaira Ahmed
- Ahtibar e wafa by Nighat Seema
- Aik thi Mishaal by Rukhsana Nigar
- Bin Mangi Dua by Effat Sehar Tahir
- Daam e dil by Riffat Siraj
- Jo ishq main beeti woh ishq hi jany by Naila Tariq
- Main guman nahi yaqeen hon by Nabeela Abar Raja
- Mom ki mohabbat by Rahat Wafa
- Nimal by Nimra Ahmed
- Parbat kay uss par kahen by Nayab Jelani
- Rapunzel by Tanzeela Riaz
- Raqas e bismal by Nabeela Aziz
- Rida e wafa by Farheen Azfar
- Shab e hijar ki pehli barish by Nazia Kanwal Nazi
- Siah hashia by Saima Akram Chaudhary
- Tery pyar ki khushboo by Qamrosh Ahok
- Toota hua tara by Sumera Shareef Toor
- Tujh se mangon main tujh ko by Shazia Mustufa
- Rehman Raheem Sadaa Saien by Umme Maryam
- Sub Tab 3.2
- Sub Tab 3.3
- Sub Tab 3.4
- Sub Tab 3.5
- Sub Tab 3.6
- Sub Tab 3.1
- Sub Tab 3.2
- Sub Tab 3.3
- Sub Tab 3.4
- Sub Tab 3.5
- Sub Tab 3.6
- Forced Marriage Novels
- Hero Boss Romantic Novels
- Tab 6 Title Here
HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS
Showing posts with label So lafzi afsana. Show all posts
Showing posts with label So lafzi afsana. Show all posts
Monday, August 13, 2018
Friday, March 16, 2018
Thursday, March 15, 2018
Tuesday, March 13, 2018
Friday, September 29, 2017
Ain. Ishq by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
ع -عشق
فو قیہ نے سلمان کو ملنے کے لیے کہا تو سلمان آج کل پر ٹا لنے لگا۔کیو نکہ وہ فو قیہ کو چا ہتا تو تھا مگر اس کی عزت پر کو ئی حرف نہ آئے اس لیے ملنے سے گر یزاں تھا۔وہ عنقر یب اس کے گھر شادی کا پیغام بھجوانہ چا ہتا تھا۔اور وہ یہ بھی جا نتا تھا کہ فو قیہ کے گھر والے بہت سخت طبعیت کے ہیں۔مگر آج اس کے بہت اسرار پر وہ اس سے ملنے کو نکل پڑا۔اس کے کالج کے با ہر وہ اس کے انتظار میں کھڑا تھا جب فو قیہ با ہر نکلی تو وہ اس کی طرف بڑ ھا۔اس نے سلام ہی کیا کہ فو قیہ نے بھا ئی کو آتے دیکھا تووہ سلمان کو تھپڑ مار کہ بو لی آ ئیندہ میرے پیچھے مت آنا ۔بھا ئی کے ہا تھو ں سلمان کی در گت بنوا کر گھر پہنچتے ہی سلمان کو سوری کا میسج کیا اور بو لی کہ میں اپنے او پر بات نہیں آنے دیتی۔
Tuesday, August 15, 2017
Munafqat by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
منا فقت!!!!
سلمہ کی فا خرہ سے بہت اچھی جان پہچان تھی ۔آج بہت وقت کے بعد سلمہ اچا نک سے فا خرہ سے ملنے آئی جس پر فا خرہ کے پاؤں زمین پر نہ ٹک رہے تھے -سلمہ کی خوب خا طر کی وہ جا نے کے لیے اٹھتی تو فا خرہ اس کو بٹھا دیتی اسی طرح شام ہونے کو آئی میں ان دو نوں کا پیار دیکھ کر متاثر تھی۔پھر مغرب کے قریب سلمہ نے جانے کی اجازت چا ہی اس کے جا تے ہی فا خرہ گو یا ہوئی"اف کچھ لوگ کتنے پکاؤ ہو تے ہیں چپک ہی جاتے ہیں جا نے کا نام نہیں لیتے"اس کے بعد میں فا خرہ کے ہاں جا نے سے گر یزاں رہی۔
آسیہ شا ہین
Sunday, August 6, 2017
Tuesday, July 11, 2017
Tamashai by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
تماشائی:
"زندہ انسانوں کی حا لت آج کل مردا لوگوں سے بد تر ہو گئی ہے۔۔زندگی بد سکو نی کا دو سرا نام بن چکی ہے۔ہر دم یوں لگتا ہے کہ ابھی کے ابھی پاگل ہو جاؤں گا۔"فہد خود سے با تیں کرتا ہوا واقعی نیم پا گل لگ رہا تھا ۔اس نے ایک ایکسیڈینٹ کے بعد عورت کو بے یارو مدد گار پا یا۔آگے بڑھا تو اس نے آفس سے گھر آتے اپنے مردہ ضمیر کو جنجھوڑ ڈالا
مگر گھر پہنچتے ہی ایک سوچ نے اس کا ضمیر پھر سلا دیا کہ"ایسا تو روز ہی ہوتا رہتا ہے ان کی قسمت میں ہی لکھا تھا ایسا "
اس کے سا تھ ہی وہ دھیان بٹا نے کے لیے انگلش مووی دیکھنے لگا۔
مگر گھر پہنچتے ہی ایک سوچ نے اس کا ضمیر پھر سلا دیا کہ"ایسا تو روز ہی ہوتا رہتا ہے ان کی قسمت میں ہی لکھا تھا ایسا "
اس کے سا تھ ہی وہ دھیان بٹا نے کے لیے انگلش مووی دیکھنے لگا۔
آسیہ شا ہین چکوال
Tuesday, May 2, 2017
Sunday, April 30, 2017
Monday, April 17, 2017
Bhikaran by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
وہ عورت رو رو کے اپنے بھو کے بچے کے لیے دو دھ کے پیسے مانگ رہی تھی۔کو ئی دیتا تو کو ئی گاڑی کا شیشہ چڑ ھا کر آ گے بڑ ھ جاتا۔
اسی کشمکش میں میں وہ عورت خواجہ ادریس کی گا ڑی کے پا س آئی اور اس سے دست سوال دراز کیا۔
خواجہ صاحب بہت پر یشان تھے۔وہ کال پر اپنی بہو کو تسلی دے رہے تھے کہ فکر نہ کرو بہت جلد پتہ چل جائے گا تم مطمئن رہو۔
کال کٹتے ہی مجبور عورت نے دوبارہ سے خواجہ صا حب کو پکارا ۔
"صا حب دیکھو بچہ بھو کا ہے اس کے لیے کچھ دے دو۔"
خوا جہ صا حب نے نا گواری سے اس جا نب دیکھا۔اشارہ کھلنے کو تھا کہ خواجہ صا حب کی نگاہ بچے پر ہی ٹکی کی ٹکی رہ گئی۔
نہ جا نے ان کو کیا سو جھی کہ بو لے۔
"آؤ بیٹھو میں تمہیں سا مان خر ید دیتا ہوں۔"
عورت چھلانگ لگا کر بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد شکاری عورت پو لیس کی تحویل میں تھی اور خواجہ صا حب کا پو تا ان کو مل گیا تھا-
آسیہ شا ہین چکوال
Saturday, April 15, 2017
Thursday, April 13, 2017
Takrar by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
"اپنے بچے کو سمجھا یا کرو بہت بدتمیز ہو گیاہے۔"
"ہاں تمہارا تو جیسے دودھ کا دھلا ہو جیسی ماں ویسا جھگڑالو بیٹا۔"
"میرا بیٹا پہلے نہیں چھیڑتا ۔ یہ عادت تمہارے بیٹے میں ہے۔"
دیورانی جٹھانی گھنٹہ بھر لڑتی رہیں۔ دونوں اپنے بچے کو سمجھا نا نہ چاہتی تھیں بلکہ ایک دوسرے کا قصور بنائے جا رہی تھیں۔ جینا مرنا ختم کر کے لڑائی کا اختتام ہوا۔
دونوں لال بھبھوکا ہوئیں اپنے پورشنز میں بند ہو گئیں۔۔
ان کے جاتے ہی دونوں بچے دوبارہ گلی ڈنڈا کھیلنے لگے۔
آسیہ شا ہین چکوال
Siyasi siyasi by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
وہ تقریروں میں لوگوں کے مفاد کی باتیں کر کے انہیں اپنے حق میں ووٹ دینے پر اکسا رہے تھے۔
ہم اس علاقے کی روڈز کی مرمت اور گلیاں پکی کروائیں گے۔ پارک میں بنچ اور جھولے اور گھروں کے باہر نالیاں بنوائیں گے ۔ آپ کا مفاد ہمیں ووٹ دیں۔" چودھری صاحب ناظم بھرتی ہوگئے۔
پہلی ہی گرانٹ دس کروڑ کی لی اور اپنی فیملی سمیت امریکہ میں سیٹل ہو گئے۔
پاکستان کے چکر لگاتے رہتے ہیں ، گرانٹ کی رقم بھی تو لینی ہوتی ہے۔
آسیہ شا ہین چکوال
Tuesday, April 11, 2017
Sakoot by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
صبیحہ اپنے ماضی میں غلطاں جانے کب سے اپنے دل کو کوئلہ کر رہی تھی۔
پرانے قصے سوچ کر کبھی خود کو کوسنے لگتی اور کبھی گزرے دنوں کو یاد کر کے خوش ہوتی اور خود کو مطمئن کرتی۔
اسی لمحے دروازے پر کھٹ پٹ ہوئی تو وہ بھاگتی ہوئی دروازےتک گئی کہ شاید اس کا کوئی اپنا اسے لینے آیا ہے مگر ہر بارپاگل خانے کی نرس بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے دھکا دے کر واپس اپنی جگہ گرا کر چلی جاتی۔ اور وہ پھر سے اپنی سسکیوں کے ہمراہ اپنے سرور کے خیالوں میں غرق ہو جاتی۔
آسیہ شا ہین چکوال
Latahaluqi by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
فجر کی نماز کے بعد وہ دونوں تلاوت میں مشغول تھے۔
فرح نے مسنون دعا راشد کو یاد کرنے کو کہا۔ مگر راشد ٹال مٹول کرنے لگا۔
فرح اسے قائل کرنے کے لیے اس کے فضائل بتانے لگی اس نے اپنی آواز میں دعا پڑھ کر راشد کے موبائل میں ریکارڈ کی اور یاد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بڑے مان اورمحبت سے گویا ہوئی ۔
" یہ دعا ہرروزپرھنا، میں چاہتی ہوں کہ اگر جائیں تو ہم ایک ساتھ جنت میں جائیں۔"
جس پر راشد اجنبیت سے بولا۔
"اللہ نہ کرے کہ وہاں بھی تمہارا ساتھ ملے۔"
فرح کے اندر بہت زور سے کوئی چیز ٹوٹی تھی۔
آسیہ شا ہین چکوال
Monday, April 10, 2017
Gunahgar by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
"دیکھو میں تم سے شادی نہیں کر سکتا یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میرا سب کچھ میری پاک دامن بیوی ہے جو یوں ہوٹلوں میں نہیں جاتی،وہ ضرور میری کسی نیکی کا اجر ہے۔"
رخشی کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔
ذلت کا یہ عالم ناقابلِ برداشت تھا۔
شادی کا چوتھا مہینہ تھا غالباً، عشاٰء کی نماز کے بعد وہ جلدی گھر آیا۔ راہداری سے گزرتے کمرے سے آتا نسوانی قہقہ سن کر ٹھٹکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ویسے دوبارہ کب مل رہے ہو؟ پچھلی ملاقات میں تم نے سونے کی چین دینے کا وعدہ کیا تھا۔"
نعیم کو ہاتھ میں پکڑی سونے کی چین رینگتا ہوا سانپ محسوس ہوا۔ رخشی کی تضحیک و آنسو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سجدے میں گر کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے لگا۔
آسیہ شا ہین چکوال
Saturday, April 8, 2017
Talib ilam by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
اساتذہ بہت محنتی تھے۔ سارا نصاب انگلش میں تھا۔
طلباء اچھے نمبرز لے کر ادارے کا نام روشن کریں اس غرض سے سائینس ، ریاضی اور انگلش وغیرہ پر اساتذہ و طلباٰ کی خوب توجہ تھی۔
طالب علم رٹا ماسٹر تھے ۔
اس وقت وہ سائینس کا کوئی مشکل ٹاپک ازبر کر رہے تھے کہ انسپکشن ٹیم آ گئی ۔
چہارم کلاس کے ایک طالب علم کو کھڑا کر کے پوچھا گیا:
"بیٹا ہم مسلمان کس کی امت ہیں؟"
تو وی حیرت سے آنکھیں پھیلائے کھڑا رہا اور کافی سوچ کر بولا۔
"اللہ تعالیٰ کی۔"
آسیہ شا ہین چکوال
Friday, April 7, 2017
Dagha by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)
بھولا اپنے جگری یار جاوید سے لی گئی سم واپس کرنے بازار آیا تو ہر طرف شوربرپا تھا کہ شیدے نائی کا قتل ہو گیا۔
"مگر کس نے کیا قتل۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا۔
پولیس قاتل کی تلاش میں سرگرداں تھی۔
جاوید جنازہ پڑھ کر آیا تو کچھ ہی دیر میں پولیس آ دھمکی اور جاوید کو پکڑ کے لے گئی۔
اور اتنا مارا کہ اس کے بدن سے خون رسنے لگا۔
"بتا شیدے نائی کا قتل تو نے کیا۔۔۔۔۔؟" اس کو آخری کال تم نے کی تھی۔"
جاوید نے انکار کر دیا تو مزید ٹارچر کیا گیا۔
جاوید کو یک دم یاد آیا کہ اس کی سم تو بھولا قصائی لے کر گیا تھا۔
تفتیش مکمل ہونے پر معلوم ہوا کہ بھولے قصائی نے جاوید کی سم سے شیدے کو بلایا اور واردات کے بعد سم واپس کر دی۔
آسیہ شا ہین چکوال
Subscribe to:
Posts (Atom)


















