HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

google play

Get it on Google Play
Showing posts with label Umm E Hureyrah. Show all posts
Showing posts with label Umm E Hureyrah. Show all posts

Sunday, April 30, 2017

Azab lamhon ki rahaten novel by Umm E Hureyrah Online Reading

Azab lamhon ki rahaten novel by Umm E Hureyrah


is famous social, romantic Urdu novel.

It was published on group of Prime Urdu Novels online.

Umm E Hureyrah is new writer and its her first novel which


is being written for us. Azab lamhon ki rahaten


is available to download and online reading. Click the

links below to download free online books,or free online

reading this novel. For better result click on the image.

Download Link

Free online reading Azab lamhon ki rahaten novel by Umm E Hureyrah


CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING

Tuesday, April 18, 2017

Barhtay huy jan lewa hadsaat by Umme Hureyrah

Election commission aur siyasi quwaten by Umme Hureyrah

بڑھتے ہوئے جان ليوا حادثات

انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں قیمتی جانوں کا ضیاع معمول بن چکا ہے۔
 2017- - 13 
اور ہیڈ پل پرجہلم میں انتہائی درد ناک حادثہ پیش آیا حادثے کی اصل وجوہات کیا تھیں ؟ ذرا سوچیے؟ 
نو گراں والے پل کا کیا ہوا جو صرف چند روز میں زمین بوس ہو گیا ابھی جس پر ٹریفک بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔
 یہ پل گاڑیوں کے جھٹکے کیسے برداشت کر سکتاتھا جو ہوا کے جونکے بھی نہ سہہ سکا لیکن خوش قسمتی سے وہاں کسی قسم کا مالی اور جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
دریائے جہلم نئے پل پہ نظر دوڑائی جائے تو وہاں پیدل چلنے والوں کے لئے صرف نام ہی کا فٹ پاتھ ہے جو جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اگر کوی شخص غلطی سے رات کے اندھیرے میں پیدل چل پڑے تو وہ اپنی منزل پر پہنچنے کی بجائے دریا میں جا گرے گا۔
 جی  ٹی روڈپرکھڈے تو بھر دیے جاتے ہیں لیکن پیدل پل کراس کرنےوالوں کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں اگر جہلم کے پرانےپل کی بات کی جائے تو وہ پل اپنی معیاد پوری کر چکاہے وہاں ریل کی پٹڑی تو حال ہی میں مرمت کی گئی ہےمگر سڑک ابھی  تک بے یارو مدد گار ویسی ہی پڑی اپنی قسمت کو رو رہی ہے۔
اور ہیڈ پل کافی بلندی پر واقع ہے جہاں آس پاس آبادی بھی مقیم ہے اس سے بھی بڑا نقصان ہو سکتا تھا اتنابڑا پل ہے لیکن اس کے آس پاس حفاظتی بن نا کافی ہیں یہاں مضبوط رکاوٹیں ہونی چاہیں تھیں اگر مزدہ اور ٹر ک پل سے نیچے نہ گرتے تو شاید اتنا بڑا جانی اور مالی نقصان نہ ہوتا اگر کبھی آپ کا جی ٹی روڈ پہ سٹی ہاوسنگ کے پاس سے گزر ہوا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں بھی چھو ٹا سا پل واقع ہے جہاں کسی بھی بڑےنقصان سے بچنے کے لئے کوئی حفاظتی تدابیر اختیارنہیں کی گئی ۔
اس حادثے کا ذمہ دار کوئی بھی ہو مگر اب حالات مسلسل چوکسی کا تقاضا کرتے ہیں کسی بھی قسم کےبڑے نقصان سے بچاؤ کے لیےپہلے سے منصوبہ بندی بےحد ضروری ہے ۔
خدا کے لئے وہاں کوئی مضبوط بن باندھو'حفاظتی رکاوٹوں کا بندو بست کرو تاکہ آئندہ ایسےدلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ اللہ پاک ہم سب کواپنے حفظ و امان میں رکھے.
آمین.

Wednesday, April 5, 2017

Election commission aur siyasi quwaten by Umme Hureyrah

Election commission aur siyasi quwaten article by Umme Hureyrah

الیکشن کمیشن اور سیاسی قوتیں


پاکستان سمیت محتلف ممالک کی عوام الیکشن کے ذریعے ہی حکمران منتحب کرتی ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن جیسے ادارے کے تحت الیکشن منعقد ہو تےہیں. پاکستان میں 23مارچ1956 کو الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا تاکہ صاف شفاف انتحابات کراۓ جائیں۔ 1973ءکے آئین میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کاتعین کیا گیا اور اسے خود مختار اور آزاد ادارہ بنایاا گیا،لیکن در حقیقت یہ صرف حکومت اور عدلیہ کے زیراثرتھا۔ پارلیمانی انتحابات 2008کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ الیکشنن کمیشن کو صحیح معنوں میں  بااختیار طا قتور اورآزاد ادارہ بنایا جائے تاکہ پاکستان میں انتحابات میں ہونےوالی دھاندلی کو روکا جا سکے۔  تب سے لے کر اب تک اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں چار ترمیمیں منظور ہو چکی  ہیں۔ حال ہی میں6 فروری 2017 کو وفاقی کا بینہ نے(انتحابی اصطلا حات)بل منظور کر لیا ہے۔ امید ہےعنقریب  پارلیمینٹ میں پیش ہونےکے بعد الیکشن کمیشن پہلےسے با اختیار اور آزاد ادارے کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس بل کی منظوری سے صاف شفاف 'دھاندلی سے پاک الیکشن منعقد کیے جا سکیں گے ۔ اگر ہم 2013کی باتکریں تو پنجاب میں بے حد دھاندلی ہوئی سندھ میں بھی دھاندلی کھل کر سامنے آگئی ۔ یہ وہ دھاندلی تھی جو مکمل انڈر سٹینڈنگ کے ساتھ ہوئی تھی کچھ لوگ پولیس کے ساتھ مل کر الیکشن انتظامیہ کے ساتھ مل کرالیکشن لڑتے  ہیں۔ یو ں دیکھا جائے تو دھاندلی باقاعدہ طورپر سیاسی عمل کا حصہ بن چکی ہے۔ الیکشن کا صاف شفاف ہونا بڑا مسئلہ نہیں لیکن جو سیاسی قوتیں اس وقت میدان میں ہیں وہ دراصل اسے دھاندلی سے پاک بنانا ہی نہیں چاہتیں۔  سب یہی چاہتے ہیں کہ یہ چیز موجود رہے آج کوئی دوسرا استعمال کرے تو کل ہم کریں گے اس لیےدھاندلی سے پاک انتحابات کرانا اس وقت تک ممکن نہ ہوسکیں گے جب تک کرپٹ حکمران حکومت میں زورآور ہیں اور ان کا زور توڑنے کے لیے ہمیں ایک ہو کر سوچ سمجھ کر صرف حکومتی اہل کو ووٹ دینا ہو گا.

Wednesday, March 22, 2017

Mere dard ki dawa koi kion kar krey koi by Umm E Hureyrah

Mere dard ki dawa koi kion kar krey koi by Umm E Hureyrah

Merey dard ki dawa koi kion kar karey by Umm E Hureyrah

آج جب پہلی بار کچھ لکھنے کی جرأت کر کے قلم اٹھایا تو شدت سے یہ احساس پیدا ہوا کہ مجھ سے بہت اچھا اور بہتر لکھنے والے موجود ہیں۔ نئے لکھاریوں کی اتنی مجال کہاں کہ ان کے مقابل آ سکیں۔ لیکن پھر بھی یہ امید ہے کہ میری یہ خفیف سی کاوش شائد قارئین کو  غور و فکر کی دعوت دے سکے۔ میرے بہت سے محترم اور عزیز لکھنے والوں نے مختلف پہلوؤں پر بہت عمدہ لکھا۔ کسی نے کرپشن سے پردہ اٹھایا ، کسی نے معاشرتی مسائل سکا احاطہ کیا۔کسی نے معاشی پہلو کو اجاگر کیا ، کسی نے سیاستدانوں کو آئینہ  دکھایا تو کسی نے جرائم اور دہشت کردی کو موضوع  گفتگو بنایا۔ حتیٰ کہ ہر ایک نے حق جوئی کی خاطر ابلاغی جہاد کیا۔ لیکن شائد اب تک بدقسمتی سے کسی مسلے کا سد ِّباب ممکن نہ ہو سکا ۔ آخر کیوں ؟ اس کیوں کا جواب کوئی دوسرا تسلی بخش دے ہی نہیں سکتا۔
 اگر ہم خود سے پوچھیں تو اکثر ہم اپنی آنکھیں بند کر لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ سوچ کر کہ ایک اکیلے شخص کے بدل جانے سے کیا ہو گا۔ دوسروں کی ظاہری برائیاں ہمیں نظر آ جاتی ہیں۔ اسے کیا پہننا چاہیےتھا، کیا کھانا چاہیے ، کیسے چلنا چاہیے ، کیسے بولنا چاہیے، کیسے رہنا چاہیے۔یہاں تک کہ ہمیں اس کی غریبی پر افسوس اور امیری پر جلن ہونے لگتی ہے۔ ہم دوسرے  کی ذات میں موجود خامیاں تو فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ اسے یہ نہیں کرنا  چاہیےتھا تو اسے وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیا یہ سب کچھ کرنے کا سرٹیفیکیٹ  ہم نے لے رکھا ہے؟ نہ تو اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے اور نہ ہی ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا۔ نہ ہمارے قائد نے ایسا کوئی خظاب کیا اور نہ ہی اقبال نے اپنی کسی شاعری میں یہ بیان کیا۔تو پھر کیوں ہم غلط راہ پر گامزن ہیں ؟ عام عوام تو ایک طرف سہی، ہمارے رول ماڈل ، ہمارے سیاستدان آئے روز ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہوئے ، ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اسلامی دور حکومت پر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں یہ جبر و تشدد، ظلم و زیادتی، قتل و غارت ، بے راہ روی، رشوت خوری، چوری، ڈکیتی، ذخیرہ اندوزی، جوا، فحاشی اور بدکاری جیسے عوامل کیوں کارفرما نہیں تھے۔ جو اب ہمارے دور حکومت میں موجود ہیں۔ ہم اپنے اسلامی اقدار، روایات اور تعلیمات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ہی دھن میں مگن ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو کوئی بھی  سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں ٹھنڈے فرش پر بیڈ نہ ملنے کی صورت میں دم نہ توڑے۔ کوئی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تلاش روزگار کے لئے در بدر کی ٹھوکریں نہ کھاتا پھرے۔ ہمارے بچے کم عمری میں مزدوری کرتے نہ دکھائی دیں۔ ہوس کے پجاری درندہ صفت آدمی یوں نہ دندناتے پھریں اور نہ ہی اسلام کے نام پر بدعات جنم لیں۔ موجودہ دور میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خواہش مضبوطی سے ہمارے اندر پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ اسی لئے تو جائز و ناجائز کچھ نہیں دیکھا جاتا۔
 ہمیں گلے اور شکوے تو بہت ہوتے ہیں۔ اصل مدعا تو یہ ہے کہ ہماری شکایات کا ازالہ کون کرے گا؟ کب تک ہم کسی مسیحا کی تلاش میں بے یار و مددگار بیٹھے رہیں گے۔ تنقید برائے تنقید کو ہم نے شیوہ بنا رکھا ہے۔ہم با آسانی سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں کیونکہ اپنے کردار کی عکاسی کرنا ہمارے لئے مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے لیڈر تو اپنے ہزار دعووں کے باوجود کوئی غیر معمولی کارکردگی  دکھانے سے قاصر ہیں تو ایسے میں ہمیں خود ہی خود کو سہارا دینا ہو گا۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا جوابدہ ہے تو کیوں نہ ہم پہلے اپنی اصلاح کا بندوبست کریں۔ اگر ہم آج اور ابھی سے اپنے احتساب کا آغاز کر کے صدقِ نیت اور صدقِ دل سے اپنی تمام ظاہری اور پوشیدہ برائیاں اتار پھینکنے کی ٹھان لیں تو یقیناً ہمیں دوسروں کی شکایات میں کمی واقع نظر آئے گی۔
تحریر امِ ہریرہ