HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

google play

Get it on Google Play
Showing posts with label Bint e Mir. Show all posts
Showing posts with label Bint e Mir. Show all posts

Saturday, May 19, 2018

Emaan kya hai Article by Bint e Mir

Emaan kya hai Article by Bint e Mir

"ایمان کیا ہے ؟"
از"  بنت میر"
ایمان کیا ہے ؟اور یہ اسلام کے لئے کیوں ضروری ہے ؟
ہم نے  کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی نہ سوچنے کی زحمت کی دراصل ایمان نام ہے "پختگی کا "سوال یہ ہے کے کس  چیز  کی پختگی کا ؟ ہماری توحید کی ہمارے اللہ پر یقین کا نام ایمان ہے ہم میں سے کتنے ہیں جو لا الہ الااللہ کا اقرار تو کرتے ہیں پر اس پر یقین نہیں رکھتے ہم خوشی میں اللہ کو بھول جاتے ہیں ہم دکھ میں اسے قصور وار ٹہراتے ہیں آپ خود سے مشہادہ کیجیے جس سے محبّت ہو اسے بھلایا جا سکتا ہے اسے دکھ اور سکھ میں فراموش کیا جا سکتا ہے بلکل بھی  نہیں لیکن ہم کیا کرتے ہیں ہم اللہ کو چھوڑ کو چیزوں کی عبادت کرتے اپنے من پسند انسانوں کی عبادت کرتے ہیں ان کو اپنا الہ بناتے ہیں قاعدہ اور اصول تو یہ ہوتا ہے جس کو مانا جائے اس کی بھی مانی جائے افسوس کے ساتھ ہم اللہ کو مانتے تو ہیں پر اسکی مانتے نہیں ہمارے یہاں سکون اس لئے ختم ہو گیا کہ ہم نے چیزوں کو ان کی اصل جگہوں سے ہٹانا شروع کر دیا توحید اللہ کے لیے تھی ہم نے اسے دوسروں ساتھ بانٹ دیا جن رشتوں کو پیار کی ضرورت تھی ان سے تعلقات کم کر دیے جن کو کم ضرورت تھی ان سے تعلقات وسیع کر لیے غریب زیادہ حقدار تھا امداد کا اور ہم امیروں کی امداد کرتے رہے کیوں کہ ہم اپنے فرائض سے غافل ہیں ہم جانتے ہی نہیں کیا چیز ہمارے  لیے معنی رکھتی ہے کیا نہیں اس لیے ہمارا ایمان کمزور ہے یہی مثال دیکھ لیں  اللہ نے ہم پر پانچ نمازوں کو فرض کیا ہے اگر ہمارے دل میں ایمان زندہ ہوتا تو کیا کوئی اس عظیم ہستی کے بلانے کو نظر انداز کرتا اور اگر کبھی ہم غلطی سے بھی اپنے تہ فرض کو پورا کر لیں تو ہم ریاکاری کی وبا میں مبتلا ہو جاتے ہیں نماز نہ پڑھ کر ہم اپنے مسلمان ہونے کا انکار ہی تو کرتے ہیں سوره مدثر کی آیات ہیں
 :*جب ان سے پوچھا جائے گا تم لوگ جہنم میں کیوں ہو تو کہیں گے ہم نہ تھے نماز پڑھتے
تو غور کریں  یہاں سے پتا چلتا ہے ایمان نہیں تو فرض نہیں فرض نہیں  تو مسلمان نہیں   تو ہم کس بنیاد پر خود کو جنت کے وارث که سکتے ہماری توحید خالص نہیں ہمارا ایمان خالص نہیں ہمارا فرض اور نیت خالص نہیں   
ہمارے پاس اتنا وقت تو ہے کہ غیبت کر سکیں لیکن اتنا وقت نہیں کہ جس نے ہمیں زندگی دی دنیا کی نمعتیں دیں جسمانی  نمعتیں دیں اسکا شکر ادا کر سکیں یہ غور کر سکیں کہ اس آخری دن کے لیے کیا ہے ہمارے پاس کیا ہے جس کی بنا پر ہم دہکتی آگ سے بچ جائیں گیں پل صراط سے گرے گیں نہیں عمال نامہ بائیں میں نہیں دائیں ہاتھ میں ہو گا اور ہمارے ہاتھ پاؤں آنکھ کان سب سچ نہیں جھوٹ بولیں گیں
کچھ بھی نہیں آج میرا رب فضل کر رہا ہے اس دن وہ عدل کرے گا اور ڈر جائیں اس دن سے جب وہ عدل کرے گا اسلیئے توحید کو خالص کریں ایمان کو مظبوط تاکہ جب رب کے حضور کھڑیں ہوں تو شرک سے کم زا کم پاک ہوں    .
***************
از  بنت میر

Sunday, April 22, 2018

Hum sab ka urdu adab se adab Article by Bint e Mir

Hum sab ka urdu adab se adab Article by Bint e Mir

ہم سب کا  اردو ادب سے ادب
تحریر  بنت میر
عام طور پر دیکھا گیا ہے کے لوگ کامن لفظوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کے اردو جو "لشکری"زبان کا لفظ ہے یعنی ساری زبانوں کا حاصل اور ہم اسی کے استعمال سے گریز کرتے ہیں اس پر انگلش کو فوقیت دیتے ہیں اگر کوئی آپ سے اپنی قومی ادبی زبان سے بات کرے تو آپ کو وہ ان پڑھ لگتا ہے جب تک وہ انگلش کا کوئی لفظ استعمال نہ کرے 
ہم وہ لوگ ہیں جو اردو آداب سے تو کیا اردو لکھنے والوں اور اس کی ترویج دینے والوں سے بھی ناواقف ہیں 
ہم میں  کتنے ہیں جو عبدلحلیم  شرر کے لکھنوءی ادب سے واقف ہیں 
ہم میں سے کتنے پریم چند کے افسانوں سے واقف ہیں 
 ہم میں سے کتنے جو اشفاق احمد  اور بانو قدسی (qudsiya )کی تحریروں  سے  گزرے
ہم میں سے کتنے جو ممتاز مفتی اور مستنسر حسین تارڈ کے  سفر ناموں سے دنیا کو دیکھا 
اور اگر بات شاعری کی ہو تو نام تک سے واقف تو ہوں گے مگر آسان الفاظ کی شاعری پر  جو غالب اور فیض نے کبھی آج جیسے لوگوں کی آسانی کے لئے لکھ رکھی ہو گی اور اگر بات ساگر ؛؛ساحر ؛؛داغ ُُمیر تقی یا میر درد و آتش کی ہو تو ہم بلکل نابلد ہیں  اور اگر بات گرامر کی کیجیے تو ہم واحد کو جمع اور معروف کو مجہول بنا دیتے ہیں گو اب بات سے بات نکلی ہے تو ہم اس کا ساتھ دینے والوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو بچارے کبھی اردو کے شوق میں آ کر اردو تو سیکھ لیتے ہیں مگر اس کی ادائیگی پر قادر نہیں ہوتے یعنی ہوتا کچھ یوں کے ؛" لفظ تو ہوتے ہیں تلفظ نہیں ہوتا "اور ان کا شوق آپ اپنی موت مر جاتا ہے  غرض یہ کے اردو ادب کے ادب  سے ہماری شناسائی افسوس کے ساتھ کچھ بھی نہیں.
********************
بنت میر