HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

google play

Get it on Google Play
Showing posts with label Malik Muhammad Aslam Hamshira. Show all posts
Showing posts with label Malik Muhammad Aslam Hamshira. Show all posts

Friday, September 14, 2018

Clean pakistan Article by Muhammad Aslam Hamshira

Clean pakistan Article by Muhammad Aslam Hamshira

”  کلین پاکستان“
تحریر ٠٠٠ملک اسلم ہمشیرا
آج میرے ایک دوست عمران مانی صاحب نے سعودی عرب سے فرماٸش کی ”کلین پاکستان“ کے عنوان سے آپ کے قلم کو حرکت میں لانے کا سوچ رھے ھیں
،میں نے کہا کہ اس ٹاپک ”کے  فواٸد و ثمرات  لکھتے لکھتے تو میرا قلم ” حرکت قلم بند “ھو کر اب صفاٸی کے نقصانات کی طرف انتقال کر چکا ھے ،اب دل کو بہلانے کے لیے خیال اچھا ھے کے مصداق بجاٸے کچرے ،کوڑا کرکٹ کے نقصان کے الٹاکچھ فواٸد بتا رھے ھیں تاکہ ”کلین پاکستان “پر عمل پیرا نہ ھونے کی صورت میں٠٠٠٠ کچرے کے اوپر قالین بچھا لیں یوں اس کو بھی ٠٠٠قالین پاکستان “ کا نام دے کر دل کو بہلا کر سکون سے بیٹھ جاٸیں
فاٸدہ 1...تو دوستو! جہاں صفاٸی کے ایک دو فاٸدے ھیں وھاں گندگی کے بے شمار فواٸد بھی ھیں،اگلے دن میں شام کو الشمس چوک پر گیا تو ریڑھی بانوں کی طرف سے کیلے کے چھلکے عوام کی سہولت کے لیے روڈ پر پھینکے گٸے تھے تاکہ لوگ سلِپ ھو کر کچھ سفر مفت اور پلک جھپک میں طٸے کر لیں اور چند سیکنڈ کے لیے ”سکاٸٹنگ“ کا مزا بھی لے سکیں،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کے سلِپ ھوکر گرنے سے ٠٠٠٠ آس پاس کے غریب ریڑھی والوں کو سستی تفریح بھی میسر آ سکتی ھے،مزید یہ کہ اگر کوٸی عورت گر جاٸے تو ناصرف ان کی جمالیاتی وظرافتی طبع کی تسکین ھو جاتی ھے بلکہ اُٹھانے کیلیے ان میں عبدالستار ایدھی کی روح جاگ جاتی ھے ،اور مدد کے لیے ایسے بھاگتے ھیں جیسے ماہ رمضان میں حلوا خور مولوی آذانِ مغرب کے لیے بھاگتا ھےاور یوں لوگوں کو لاٸیو کامیڈی ڈرامہ دیکھنے کو مل سکتا ھے اور اوچ کے نکمے صحافیوں کو ایک خبر بھی مل سکتی ھے
فاٸدہ نمبر 2..دو دن پہلے میں موٹر ساٸیکل لے کر بازار گیا تو کسی ریڑھی والے نے غریب پروری کا ثبوت دیتے ھوٸے آم کی پیٹی کا ٹکڑا سرِ راہ پھینک دیا جسمیں دو عدد لوھے کی کیلیں بھی نصب تھیں جو آسمان کی طرف منہ کیے اپنے شکار کے حصول کے لیے دعا گو تھیں کہ بندہ ناچیز کےموٹر ساٸیکل کا پچھلا ٹاٸر ان کی تیرِ نظر کا شکار ھو گیا،ایک” ٹھس“٠٠٠٠ کی کربناک آواز کے ساتھ ھی موٹر ساٸکل نے احتجاجاً وھاں دھرنا دینے کا مصمم ارادہ فرمالیا، ٠٠٠٠مگر میں ٹینکی کو سیٹ کا درجہ دیتے ھوٸے پنکچر والی دکان تک گھسیٹ لانے میں کامیاب ھو گیا،چنانچہ پنکچر والے نے سارے دن کا  ”مَندا “ “مجھ ناچیز سے پورا کیا اور یوں کسی غریب کا معاشی استحصال ھونے سے بچ گیا
فاٸدہ نمبر 3...پچھلے ہفتے  کسی بھلے مانس نے پھلوں کی پیٹی میں موجود کچرے کو کہیں دور ٹھکانے لگانے کی بجاۓ الشمس چوک پر آگ لگا دی یوں عوام کو مچھر ،پتنگوں،سے کچھ دیر کے لیے آرام میسر آ گیا اور کچھ ضعف طبع لوگوں کومفت میں ہاتھ سینکنے کی سہولت بھی میسر آ گٸ
فاٸدہ ٠4.
کچرا پھیلانے میں شاپر کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ھے،کیونکہ بعض اوقات سرِراہ اچانک پھٹ جانے سے چیزیں گر جاتی ھیں اور سفید پوش حضرات تو  شرم کے مارے اٹھاتے نہیں یوں کسی غریب کے وارے نیارے ہوجاتے ھیں،اس کے علاوہ شاپروں کا ایک فاٸدہ یہ بھی ھے کہ یہ نالیوں اور گٹروں میں پھنس جاتا ھے اور کمیٹی والوں کے جمعداروں کی چاندی ھو جاتی ھے،جب ان کو گٹر کھلوانے کے لیے بلانے جاٸیں تو وہ درج اول کے مجسٹریٹ کی طرح اتراتے نظر آتے ھیں،اس طرح لوگوں میں ان کمیٹی والوں کی اہمیت کا احساس اجاگر ھوتا ھے
کلین پاکستان کی تحریک کو کچلنے میں اُن دیہاتیوں کا کردار بھی خاصی اہمیت کا حامل ھے جو اپنے جانوروں کا گوبر سُکھانےکی غرض سے راستے،سڑک  پر پھینک دیتے ھیں تاکہ آنے جانے والے سلپ ھو کر اس کی مہک سے مستفید ھو سکیں
اس کے علاوہ ذاتی صفاٸ نہ رکھنے والوں میں ایک روشن نام مختیار عرف” مُتی شاہ“ شاہ بھی ھے ٠٠٠کل اس نے ذاتی صفاٸ نہ رکھنے کے فواٸد و ثمرات  پر روشنی ڈالتے  ھوٸے فرمایا کہ
1 ناخن نا کاٹنے سے آپ” خرسا“ یعنی خارش آسانی سے فرما سکتے ھیں اور کینوں، مسمی،وغیرہ بھی آسانی سے چھیل سکتے ھیں،ھاتھا پاٸ کی صورت میں بھی بطور اسلحہ استعمال کر سکتے ھیں
2 بنیان اور جرابیں اگر نہ دھوٸ جاٸیں تو ڈھونڈنے میں آسانی ھوتی ھے چاھے بجلی نہ بھی ھو ،بندہ اندھیرے میں بھی سونگھتے سونگھتے موقع پر پہنچ جاتا ھے
منہ نہ دھونے کے بارے میں ایک مشہور سِکھ کا قول بھی سنا دیا کہ ٠٠٠
”منہ دھووِن موذی    تے جواناں دے صرف غرارے مرارے“
ابھی مُتی شاہ کی گل افشانی جاری تھی کہ میری ساتھ کھڑے ھونے کی ھمت جواب دے گٸ کیونکہ جناب کے جسم سے جو مشکِ نافہ نکل رھا تھا اس نے مجھے سانس روکنے پر مجبور کر دیا تھا
والسلام
فقط آپکا بھاٸی ملک محمد اسلم ہمشیرا
03069559682

Wednesday, August 15, 2018

Dhandli Article by Malik Aslam Hamshira

Dhandli Article by Malik Aslam Hamshira

”دھاندلی“
از قلم ،٠٠٠ملک محمد اسلم ھمشیرا
آجکل کچھ شکی مزاج قسم کے  لوگ ھم اساتذہ سے  یہ سوال پوچھتےنظر آتے ھیں کہ ”یار آپ نے الیکشن ڈیوٹی تو کی ھے کیا دھاندلی ھو ٸی ھے“؟
اور جب  ھمارا جواب اُن کی توقع کے بر عکس” نہیں“میں ھوتا ھے تو پھر اُن کے بوتھے پر  ایک معنی خیز مسکراہٹ چھا جاتی ھے اور جو بعد میں مایوسی میں تبدیل ھو جاتی ھے ،جبکہ اُن کو اُمید یہ ھوتی ھے کہ ابھی استادِ محترم انکشافات کا ایک دیو قامت پینڈورا باکس کھولنا شروع کر دے گا اور  تمام حقاٸق سے پردہ اٹھانا شروع کر دے گا ،کہ کس طرح اُوپر سے حکم ملا کہ p t i کو جتوانا ھے ٠٠٠٠٠،کس طرح ساری رات ھم ٹھپے مارتے رہے٠٠٠٠٠اور،مخالف جماعتوں کے ووٹ چھپاتے رھے٠٠٠٠٠ اور کس طرح گنتی میں ووٹ بڑھاتے رہے؟٠٠٠٠کس طرح ھم ایک دوسرے کو اشارے کنایوں میں سمجھاتے رھے٠٠٠٠ کہ شفاف الیکشن کو کیسے غرق کرنا ھے؟ اور کس طرح ھم کو 4500 کے علاوہ ایک بڑی رقم بطور” جھرلو اعزازیے “کے طور پر دی گٸ ؟
مگر اِن عقل کے دشمنوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک استاد جس کا پیشہ پیغمبری، اور دُنیا جن کی خدمات کی معترف ھے اور جِس کو معمارِ قوم کے نام سے یاد کیا جاتا ھے اُس کے پاس کرنے کو یہی ایک کام رہ گیا ھے ؟
ھاں البتہ کچھ پریزاڈنگ آفیسر اتنے دقیہ نوسی اور خبطی ضرور ھوتے ھیں جو بال کی کھال اس مہارت سے اتارتے ھیں کہ بال کو  بھی پتہ نہ چلےاور کھال کو بھی نقصان نہ ھو  اسی تگ و دو میں ساری رات گزر جاتی ھے اور کیونکہ ایسے پریزاٸڈنگ آفیسران  ایک ایک ووٹ سے ھمکلام ھوتے ھیں اور پوچھتے ھیں کہ بتا تیری رضا کیا ھے ؟اور تم کو کس لفافے میں ڈالوں؟
جلتی پر تیل یہ کہ الیکشن کمیشن اور آفیسران بالا کی طر ف سے جگہ جگہ ایسی سخت ھدایات باور کرواٸی جاتی ھیں جن کی ذرا سی بھول چوک پر براستہ پیڈا ایکٹ نوکری سے برخاستگی کے اعلی ترین منصب پر فاٸز کیا جا سکتا ھے٠٠٠٠یا مچھ جیل میں مستقل رھاٸش کا مژدہ سنایا جاتا ھے
،اس طرح کی خوفناک ہدایات کو  نرم مزاج اساتذہ بھلا کہاں سہہ سکتے ھیں جو سکول سے گھر آتے ھوٸے  اگر آدھ گھنٹہ لیٹ ھو جاٸیں  تو بسلسلہ ذاتی شنواٸی بیگم کے حضور کھڑے ھو کر ایک گھنٹے کا این ٹی ایس ٹیسٹ دیتے نظر آتے ھیں،اسی طرح جمع تفریق کی 100فیصدی کے چکر میں پریذاٸڈنگ حضرات نا صرف خود حواس باختہ پھرتے نظر آتے ھیں بلکہ ماتحت اساتذہ بھی ساری رات ”لیلے“کی طرح  اعزازیے کے چکر میں پیچھے لگے رھتے ھیں اور جب تک ایک  تنکے کی بھی غلطی کا احتمال ھو تب تک رزلٹ اور سامان جمع نہیں کیا جاتا،یعنی اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اسی طرح ایک سانحہ تحصیل احمد پور میں پیش آیا کہ کچھ بے چارے اساتذہ کرام ریٹرنگ آفیسران کے دفتر کے ساتھ ملحقہ مسجد میں صبح تک رزلٹ ترتیب دیتے رھے اور سامان کو جمع کرانے کی تیاری میں تھے مگر ان بے چاروں کو کیا معلوم تھا کہ ایک ھاری ھوٸی پارٹی آس پاس منڈلا رہی ھے اور اپنی ھار کا غم غلط کرنےکے لیے کوٸی عذر ڈھونڈھ رھی ھے ،تو کسی خوشامدی برآمدی نے اُن گنتی شدہ بیلٹ پیپرز کو دیکھتے ھوۓ ”دھاندلی“کا ایک نعرہ مستانہ بلند کیا اور کسی جنگلی وحشی کی طرح ھمراھان ھمنواھان  اساتذہ پر ٹوٹ پڑے مگر جب تک قانون کے محافظ بیچ بچاٶ کراتے استادوں کا 4500 حلال ھو چکا تھا
اب الیکشن بیت چکا اور ہارنے والے  پرانے سیاسی گِدھ اپنی اس ناکامی پر آہ و فغاں کرنے کے لیے اکھٹے ھو چکے ھیں کیونکہ اِن کے منہ کو ھم عوام کا خون لگ چکا ھے اور یہ ایسے جان چھوڑنے والے نہیں،اور دھاندلی دھاندلی کا ورد کرتے ہوٸے  ان کی خشک زبانیں تالو کو لگ چکی ھیں،کیونکہ یہ کبھی نہیں چاہتے کہ  یہاں حقیقی جمہوریت کو پنپنے کا موقع ملے، ھم سات لاکھ اساتذہ  اس بات کے گواہ ھیں کہ ایک تنکے کی ھی دھاندلی نہیں ھوٸی،سوچنےکی بات ھے کہ تمام اساتذہ کا تعلق صرف ایک ہی سیاسی جماعت سے تھا ؟،ہماری آرمی دنیا کی سب سے  بہترین آرمی سمجھی جاتی ھے اور عوام اس سے بہت محبت کرتی ھے اور یہی لوگ عوام کے دل میں فوج کے خلاف نفرتیں بھرتے ہیں،
اگرچہ کچھ لوگ کہتے ھیں کہ عمران آرمی کی آشیرباد سے آیا ھے ، اگر وہ اپنی قابلیت سے آیا ھے تو اچھی بات ھے اور اگر آرمی کی آشیرباد سے آیا ھے تو اور زیادہ اچھی بات ھے،کیونکہ ھماری کچھ سیاسی طاقتوں کو بیرونی اسٹیبلشمنٹ شہہ فراھم کر رھی ھے تو اس سے بہتر یہی ھے کہ ھماری اپنی افواج اگر کسی پر بھروسہ کرتی ھے تو ملکی سلامتی کے لیے بہرحال بہتر ھے،کچھ ناقدین کو میرا یہ کالم جھکاٶ پر مبنی لگے مگر مجھے اسکی پرواہ نہیں ،کیونکہ  مجھے اپنی افواج پر مکمل بھروسہ ھے اور ملکی سلامتی سب سے پہلے٠٠٠اگر ھماری عدلیہ اور فوج  کل عمران کو بھی کرپشن میں اڈیالہ  بھیج دیتی ھے تب بھی ھمیں ھماری فوج پر اعتماد ھو گا، ہمیں شیر٠٠بلے٠٠٠تیر٠٠٠ کتاب٠٠٠جیپ٠٠کسی  سے کوٸی سروکار نہیں جو بھی اس ملک سے غداری کرے گا  ان شاء اللہ ذلیل ھوگاٗویسے دوران ڈیوٹی افواجِ پاکستان کا کردار مثالی رھا کیونکہ دوران ڈیوٹی انھوں نے نہ کسی سے کچھ کھایا پیا اور نہ کسی قسم کی دھاندلی یا جھکاٶ میں ملوث نظر  آۓ
،بہرحال اب خدا خدا کر کے تو موروثی سیاست سے جان چھوٹی ھے،اورہم سبھی شجر سے پیوستہ ھو کر بہار کی اُمید رکھے ھوۓ ھیں،آگے اللہ مالک ھے،آخر میں دعا ھے کہ”اۓ اللہ پاک( جو بھی ھمارے پاک وطن کے لیے بُرے عزاٸم رکھتا ھے اس کو نشانِ عبرت بنا دے()آمین
********************
دعاگو ملک اسلم ھمشیرا

Monday, August 13, 2018

Aap beeti So lafzi afsana by Malik Aslam Hamshira

Aap beeti So lafzi afsana by Malik Aslam Hamshira


”  آپ بیتی“
از قلم ملک اسلم ھمشیرا،اوچ شریف

 آج کل گرمیوں کی چھٹیاں قبر میں ٹانگیں  لٹکاٸے اپنی آخری سانسیں گن رھی ھیں اور ھم اساتذہ کرام ان کی اس حالتِ ذار پر ٹھنڈی سانسیں لے رھے ھیں ،کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں ھی ھماری عیاشی کا واحد ذریعہ ہوتی ھیں ،سارا دن سونا اور سو سو کر تھک جانا تو تھکن اتارنے کے لیے پھر سو  جانا، ایک تو جب سے یہ کمبخت فیس بک آٸی ھے سونے جاگنےکا ٹاٸم ٹیبل بھی عجیب و غریب شکل اختیار کر چکا ھے،ابھی پرسوں کی بات ھےکہ علی الصبح 4بجے کسی ٹھرکی نے  اپنی جانو مانو کے بُھلیکھے میں میرا نمبر ڈاٸل فرما دیا اور جونہی میری جاگ ھوٸی ،ھیلو کیا تو  جواب ندارد٠٠٠
اتنے میں نماز کا وقت ھو گیا اور مسجد چلا گیا ،جوتی سرقہ ھونے کی فکر  دوران نماز بالکل آڑے نہیں آٸی کیونکہ میں وہ پرانی سوفٹی پہن کے گیا تھا جو پاٶں کے دباٶ پڑنے پر شوں شاں، شوں شاں کی سیٹی بجاتی ھے اور نماز کا وضو کر تے وقت یہ بھی اپنے حصے کا پانی نوش فرما لیتی ھےاور  پانی سے اس کی آواز مزید دردناک ھو جاتی ھے ،لہذا اس کے مسجد سے چوری ھونے  کے امکانات اتنے ھو جاتے ھیں جتنے مولانا فضلو کے وزیر اعظم بننے کے٠٠٠ اداٸیگی نماز کے بعد گھر آ کر دوبارہ ایسے سو گیا جیسے مولوی صاحب  نے مجھے مشروبِ قاٸم علی شاہ  پلا دیا ھو ، مگر شومیٕٕ قسمت، بیگم نے چیف جسٹس کی طرح سو مو ٹو ایکشن لیتے ھوۓ حکم نامہ جاری فرمایا کہ گھر میں تو خاک نہیں ،پلک جھپک میں ایک خالی کِٹا بمعہ سودا سلف کی لمبی فہرست، تھما کر گیٹ سے نکال باہر کیا ،میں بھی حُب الپتنی کے جزبے سے سرشار بد رنگے کپڑے پہنے اور آنکھیں مکولتےمنڈی کی طرف گامزن ھو گیا ابھی چوھدری منیر والی گلی ہی مڑا تھا کہ ٠٠٠٠٠ایک ماسی نما عورت نے میرے حُلیے کا ٹھیک اندازہ لگاتے ھوۓ استغفار کیا ٠٠٠٠٠٠کہ ”گتے تے بوتلاں وی گھِنسیں“ ؟
یہ سُن کر میرے چوداں طبق روشن ھو گۓ اور میں نے سنی ان سنی کرتے ھوۓ سپیڈ پکڑی اور منڈی جا دھمکا٠٠٠
وہاں  ٹماٹر والوں کی تو رقت امیز صداٸیں تھیں کہ تیس کے دس کلو٠٠٠ پچاس کے دس کلو٠٠٠میں نے بسم للہ پڑھ کر ایک تھیلا پکڑا اور یہ جا وہ جا
آگے متیرے والے کی دربار پہ حاضری تھی اس نے  مجھے دیکھتے ہی اپنے بیٹے کو مخصوص انداز میں اشارہ کیا اور کہا یہ اپنے ماسٹر صاحب ہیں کوٸ چنگے دانے نکال کے دینا٠٠٠
لڑکے نے دو تربوزوں کو تھپکی لگاٸ تیسرا اٹھا کر دے دیا٠٠٠پھر دو کو تھپکی لگاٸ اور تیسرا آنکھ بند کر کے دے دیا میں تربوزوں کے الٹراساٶنڈ کی اس جدید منطق کو سمجھنے سے قاصر تھا سو  اٹھا کر چلتا بنا٠٠٠
پھر قصاٸ کے حضور پیشی ھوٸ تو قصاٸ نے پوچھا ملک صاحب کیا چاہیے؟  مشکُٗ ٠شانہ٠ چانپ  ٠کلیجی ٠یا   پُٹھ؟؟؟؟
اچانک کسی گاھک کی آواز آٸ کہ”  عباسی صاحب کے پاۓ کہاں ہیں“؟
کسی نے کہا میرے گردے نکالو اور ہاں کلیجی دینا  دل نہ دینا٠٠٠،ھڈی کچھ توڑ دو٠٠٠
میں ہکا بکا ہو کر تماشاٸے اہلِ کرم دیکھتا رھا پھر گوشت کی سرخی دیکھتے ھوۓ قیمہ مارنے کو کہا، تو وہ ”جی ساٸیں کہہ کر٠٠٠٠  ہر فرقے ،ہر مسلک، ہر رنگ کی بوٹی ڈال کر ایک مرکب تیار کر کے دے  دیا ٠میرے احتجاج سے پہلے وہ کسی مستند حکیم کی طرح بول اٹھا”واہ ملک صاحب  ”یہ تو وہ بوٹی ھے جس کی خاطر قصاٸ نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا ،دوسری بوٹی کو شوگر کے لٸے اکسیر قرار دیا ،یہ جو بوٹی ھے جوڑوں کے درد کا علاج ھے ، پھر میں نے ایک چھیچھڑے کو شاپر سے  باھر نکال کر واپس کرنا چاھا تو قصاٸی نے میری دکھتی رگ پر ھاتھ رکھتے وہ افادیت بتاٸی کہ جس کو سن کر لقمان حکیم کی روح بھی کانپ اُٹھی فرمایاکہ ”یہی تو وہ بو ٹی ھے جو جناب کو رات بارہ بجے اُٹھاٸے گی “
میں نے اس نایاب چھیچھڑے کو واپس شاپر میں ڈالا اور    گھر چم پت ھو گیا 
گھر  پہنچ کر میں نے تھیلا زال کے قدموں میں  رکھتے ھوۓ داد طلب نگاھوں سے  بیگم کو دیکھا مگر  بیگم نے کہا کہ تم کو ابھی شاباشی دینا قبل از وقت ھو گا٠٠٠٠٠ فورًا چُری سے ایک تربوز کاٹا گیا  تو تربوز کی مہک سے مجھے  اندازہ ھو گیا کہ میرا بیوی کے سامنے  موجود ھونا خطرے سے خالی نہیں  سو میں نے فورًا دوسرے تربوز کی قربانی پیش کی مگر وہ تو اُس سے بد تر  نکلا ٠٠٠یہ  تو خدا کا شکر ھے کہہ میری عقابی نظر پہلے منحوس متیرے پر جمی ہوٸ تھی  اور میں نے خطرے کو پہلے ھی بھانپ لیا تھا،  چنانچہ باہر کیلیے رختِسفر باندھنے کو ترجیح دی٠کیونکہ کسی وقت بھی برتنوں کی شیلنگ شروع ھو  سکتی تھی
میں نے باہر نکلنے میں ھی عافیت سمجھی کیوں  کہ مزید ٹماٹر اور گوشت کی کوالٹی چیک کروانے کا  متحمل نہیں ھو سکتا  تھا وہ بھی گرمیوں کی تعطیلات کے حسین دنوں میں٠٠٠٠٠
*****************

Friday, August 3, 2018

Election duty online reading by Malik Aslam Hamshira

Election duty by Malik Aslam Hamshira

Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, Urdu short afsana/novel

Election duty pdf by Malik Aslam Hamshira

complete in pdf.

Click the links below to download this novel in pdf form or 

free online reading. For better result click on the image to zoom.

DOWNLOAD LINK



Election duty online reading by Malik Aslam Hamshira


CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING





Wednesday, August 1, 2018

Dawat e walima online reading by Malik Aslam Hamshira

Dawat e walima by Malik Aslam Hamshira


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, Urdu short afsana/novel

Dawat e walima pdf by Malik Muhammad Aslam Hamshira

complete in pdf.

Click the links below to download this novel in pdf form or 

free online reading. For better result click on the image to zoom.

DOWNLOAD LINK



Dawat e walima online reading by Malik Aslam Hamshira


CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING





Sunday, July 29, 2018

Azeem docutor hazrat online reading by Malik Muhammad Aslam Hamshira

Azeem docutor hazrat by Malik Aslam Hamshira


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, Urdu short afsana/novel

Azeem docutor hazrat pdf by Malik Muhammad Aslam Hamshira

complete in pdf.

Click the links below to download this novel in pdf form or 

free online reading. For better result click on the image to zoom.

DOWNLOAD LINK



Azeem docutor hazrat online reading by Malik Muhammad Aslam Hamshira



CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING





Thursday, July 26, 2018

Bila unwan afsana online reading by Malik Muhammad Aslam Hamshira

Bila unwan by Malik Muhammad Aslam Hamshira


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social, Urdu short afsana/novel

Bila unwan afsana pdf by Malik Muhammad Aslam Hamshira

complete in pdf.

Click the links below to download this novel in pdf form or 

free online reading. For better result click on the image to zoom.

DOWNLOAD LINK



Bila unwan afsana online reading by Malik Muhammad Aslam Hamshira

CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING